![]() |
اسرائیل کا قبلہ اول پر حملہ کرنا صعودی عرب کو پاکستان سے کچھ سیکھنے کی ضروت ہے ۔ |
عرب ممالک کو پاکستان سے سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارے پڑوس میں ہم سے دس گنا بڑا طاقتور حریف موجود ہے جس کی فوج دنیا کی بہترین فوج میں سے ایک ہے لیکن مجال ہے کہ پاکستان ایک لمحے کےلیے بھی اس کی طاقت سے مرعوب ہوا ہو۔ پاکستان نے اپنی دھرتی کے ایک ایک چپے کی حفاظت کی ہے اور ہمیشہ بھارت کے ہر عمل کا جواب دیا ہے۔ 26 فروری کو تو زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب پاکستان نے بھارتی کاروائی کا سخت ترین جواب دیتے ہوئے اس کے طیارے گرائے۔ پاکستان بنے صرف ستر سال ہوئے ہیں لیکن آج دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو فتح نہیں کر سکتی ۔
طاقتور عرب ریاستوں کے بیچ چھوٹے سے اسرائیل نے عربوں کو تگنی کا ناچ نچانے کے بعد بالآخر اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کر لیا ۔ عربوں نے اپنی دفاعی قوت میں اضافہ کرنے اور سائنس وٹیکنالوجی کو اپنانے کی بجائے عیاشیوں میں زندگی گزاری اور آج غلام ہو کر رہ گئے ہیں۔
اس کے مقابلے میں پاکستان دفاعی لحاظ سے دنیا کی مضبوط ترین طاقتوں میں شامل ہو گیا۔ اسرائیل کو ناقابل تسخیر دفاعی قوت سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان وہ واحد اسلامی ملک ہے جس کا ڈیفنس سسٹم اسرائیل سے کئی گنا اچھا ہے۔ پاکستان کی دفاعی ٹیکنالوجی ہر لحاظ سے اسرائیل سے اچھی ہے۔ اسرائیل سے کم دفاعی بجٹ کے باجود پاکستان کی میزائل ڈیفنس سسٹم اور ریڈار سسٹم کی ایکوریسی اسرائیل کو مات دیتی نظر آتی ہے ۔
اسرائیل نے ہمیشہ عربوں کے ساتھ پراکسی وار کھیلی ۔ جگہ اور لڑنے کے انداز کا انتخاب اسرائیل کے پاس رہا جبکہ پاکستان خود پراکسی ماسٹر ہے جو سپر پاور کو بھی مات دے دیتا ہے۔ پاکستان اپنی سرزمین سے زیادہ دوسروں کی سرزمین پہ لڑتا ہے۔ عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان نے اپنی ٹیکنیکل اور افرادی مہارت دکھائی لیکن پالیسی عرب کی تھی ۔ اس بار عرب الگ ہو چکے ہیں لہذا اگر پاکستان نے اس مسئلے میں خفیہ طور پر ہاتھ ڈالا اور پلان خود بنایا تو آپ دیکھیں گے کہ یہ جنگ اسرائیل کی گلیوں میں لڑی جائے گی اور اس کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ جو افغانستان میں امریکہ کو چکما دے سکتا ہے اس کے سامنے اسرائیل کیا شے ہے۔
پاکستان دشمن پہ رعب طاری کرنے میں ماہر ہے ۔ اپنے سے دس گنا بڑے حریف پہ پہلا وار پاکستان خود کر کے اس کے اندر اپنی طاقت کی دھاک بٹھا دیتا ہے۔ 1948 پہ پاکستان ایک کمزور ترین ملک تھا لیکن بھارت جیسی طاقت سے آدھا کشمیر لے اڑا ۔ 1965 میں جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی کا سامنا کیا اور الٹا دشمن کے زیادہ علاقوں پہ قبضہ جما لیا اور تاریخی دفاع کیا ۔ پاکستان کے ہوتے ہوئے کبھی بھارت کو یہ جرآت نہیں ہوئی کہ اسرائیل کی طرح کشمیر کی آبادی پہ فضائی بمباری کرے یا لوگوں کو ان کے گھروں سے زبردستی بے دخل کرے ۔ بھارت کشمیری مظاہرین پہ گولیاں چلا کر اور دہشت گردوں کی آڑ لیکر وہ روکنے کی کوشش کرتا ہے ۔ چھوٹے سے حصّے میں اسے نو لاکھ فوج لگانا پڑی ہے ۔ یوں کشمیر پہ قبضہ برقرار رکھنا بھارت کو انتہائی مہنگا پڑتا ہے ۔ اسی لیے فوج کی تعمیر نو نہیں کر پاتا ۔ اکثر فورسز کے پاس لوازمات کی کمی ہوتی ہے ۔ جن طیاروں کو دنیا دہائیوں قبل چھوڑ چکی ، بھارت آج بھی ان گرتی مشینوں کو استعمال کرنے پہ مجبور ہے ۔ دشمن کو زبردست معاشی نقصان پہنچانا پاکستان کی پالیسی ہے ۔ کارگل پہ وار کر کے بھارت کو وہاں بھی سارا سال مہنگا ترین پہرے دینے پہ مجبور کیا جو پورے صوبے جتنا بجٹ کھا جاتی ہے ۔
بھارت نے پاکستان کے اندرونی اختلافات کا فایدہ اٹھا کر مکتی باہنی کھڑی کی جس سے بنگلہ دیش الگ ہوا ۔ یقیناً اس میں اپنی غلطیاں زیادہ تھیں لیکن بھارت کو سبق سکھانے کے لئے پاکستان وہاں 36 علیحدگی پسند تنظیموں کو کھڑا کر چکا ہے جو بھارت جیسی بڑی طاقت کو ناکوں چنے چبواتے رہتے ہیں ۔
بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو پاکستان نے ہر مشکل کے باجود اپنا پروگرام شروع کیا ۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ایک کمزور معاشی ملک نے دنیا کی سب سے خطرناک ٹیکنالوجی حاصل کر لی۔ اس کے برعکس عرب ممالک نے اپنی فوج کی تعمیر پہ ہی توجہ نہیں دی۔
روس کے افغانستان پہ حملے کے وقت جب پورہ عالمی دنیا مان چکی تھی کہ اب افغانستان پہ قبضہ کر لے ، یہ پاکستان ہی تھا جس نے فوراً پالیسی مرتب کی اور افغانستان میں جنگ کا پانسہ ایسا پلٹا کہ امریکہ کو واضح جیت نظر آئی اور سالوں بعد وہ بھی افغانستان میں مدد کو آن پہنچا ۔ پاکستان نے ان کے خرچوں پہ اپنی جنگ لڑی۔ اس کے بعد امریکہ کو افغانستان پہ مکمل قابض نہیں ہونے دیا بلکہ مخالف قوت کو زندہ رکھا اور بیلنس بگڑنے نہیں دیا۔ یوں افغانستان کو بچایا بھی اور خود کو بھی محفوظ کر لیا ۔ اتنی بڑی جنگ کسی بھی طاقت پہ مسلط کی جاتی تو آج اس کے پرخچے نہ ملتے۔ پاکستان سالوں کی پراکسی کے بعد اس سے نکل آیا۔ آج امریکہ بھی پاکستان کی طرف دیکھتا ہے جبکہ (ط۔ا لبا ن ) پہ بھی پاکستان کا واضح ہولڈ دنیا مانتی یے۔ یوں دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائنر بھی بن گیا اور دونوں طبقوں کی نظر میں خود کو اچھا ثابت کیا ۔ کسی بھی طبقے کو حد سے آگے نہ بڑھنے دیا کہ وہ پاکستان کے مفادات کو زد پہنچا سکے ۔


0 تبصرے